Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بچی کا نام "ولیہ" رکھنا کیسا؟
- Fatwa no.
- 2680-WAT
Question
بچی کا نام ولیہ رکھنا کیسا؟
Answer (beginning)
"ولیہ " یہ لفظ "ولی" کی مونث ہے اور "ولی" کا معنی ہے ، دوست ، مدد گار وغیرہ،لہذا معنی کے اعتبار سے "ولیہ "نام رکھ سکتے ہیں، البتہ بہتر یہ ہے کہ بچی کا نام نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات، بیٹیوں، نانیوں، دادیوں، صحابیات رضی اللہ عنہن اور نیک خواتین کے نام پر رکھا جائے کہ اس کی وجہ سے نام کی برکت اور ان بزرگ ہستیوں کی برکت بھی بچی کے شامل حال ہو گی۔ المنجد میں ہے ”الولیۃ : ولی کا مؤنث۔ (المنجد، ص 999، خزینہ علم وادب، لاہور) تاج العروس میں ہے ”الولي له معان كثيرة: فمنها: (المحب) منها: (الصديق و) منها: (النصير)“ ترجمہ : لفظ ولی کے کئی معانی ہیں۔ ان میں سے چند یہ ہیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.