Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

قربانی کی گائے بچہ دے تو بچے کا حکم

Fatwa no.
2674-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ہم نے دو ماہ پہلے ایک گائے قربانی کے لیے خریدی تھی، اس گائے نے ایک بچھڑے کو پیدا کیا ہے، اس بچھڑے کے متعلق کیا حکم ہے ؟ کیا ہم اسے پال سکتے ہیں ؟

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں گائے کی قربانی کے ساتھ اس کے بچھڑے کو بھی ذبح کر دیں، اور اگر بچھڑے کو بیچ دیا تو پھر اس کی قیمت صدقہ کر دیں، اور اگر بچھڑے کو ذبح نہیں کیا اور نہ ہی اس کو بیچا اور اسی طرح قربانی کے ایام گزر جاتے ہیں تو پھر اس زندہ بچھڑے کو صدقہ کر دیا جائے۔ بہار شریعت میں ہے " قربانی کے لیے جانور خریدا تھا قربانی کرنے سے پہلے اوس کے بچہ پیدا ہو اتو بچہ کو بھی ذبیح کر ڈالے اور اگر بچہ کو بیچ ڈالا تو اس کا شمن صدقہ کر دے اور اگر نہ ذبح کیا نہ بیع کیا اور ایام نحر گزر گئے تو اوس کو زندہ صدقہ کر دے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.