Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
دانتوں کے ہلنے کی وجہ سے ان میں تار لگوانا کیسا؟
- Fatwa no.
- 2671-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت دعوت اسلامی) دانتوں کے ہلنے کی وجہ سے ان میں تار لگوانا کیسا ہے ؟
Answer (beginning)
دانتوں کے ہلنے کی وجہ سے اس میں تار لگانا جائز ہے۔ بہار شریعت میں ہے: ” ملتے ہوئے دانتوں کو سونے کے تار سے بند ھو انا جائز ہے اور اگر کسی کی ناک کٹ گئی ہو تو سونے کی ناک بنوا کر لگا سکتا ہے۔ ان دونوں صورتوں میں ضرورت کی وجہ سے سونے کو جائز کہا گیا، کیونکہ چاندی کے تار سے دانت باندھے جائیں یا چاندی کی ناک لگائی جائے تو اس میں تعفن پیدا ہو گا۔“ (بہار شریعت،ج03، حصہ 16، ص 428، مكتبة المدينة وَاللهُ أَعْلَمُ عَزَوَجَكَ وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّم عالم الان اهانت Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.daruliftaahlesunnat.net Dar-ul-ifta…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.