Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا عورت اپنے بھتیجے یا بھانجے کے ساتھ عمرے پہ جا سکتی ہے؟
- Fatwa no.
- 2669-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا عورت اپنے بھتیجے یا بھانجے کے ساتھ عمرے پہ جا سکتی ہے؟
Answer (beginning)
بھتیجا بھانجا بھی محرم ہیں، اگر وہ مراہق ( قریب البلوغ یعنی اسلامی مہینوں کے اعتبار سے 12 سال کا ) یا بالغ ہے، تو اس کے ساتھ بھی عورت شرعی مسافت طے کر کے عمرے پہ جاسکتی ہے۔ اور اگر وہ مراہق بھی نہیں، تو پھر اس کے ساتھ شرعی سفر نہیں کیا جاسکتا، جبکہ کوئی اور محرم وغیرہ ساتھ نہ ہو۔ امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان رحمتہ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: ” پر وہ صرف ان سے نادرست ہے جو بسبب نسب کے عورت پر ہمیشہ ہمیشہ کو حرام ہوں اور کبھی کسی حالت میں ان سے نکاح نا ممکن ہو جیسے باپ، دادا، نانا، بھائی، بھتیجا، بھانجا، چچا، ماموں، بیٹا، پوتا، نواسا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.