Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

عمرہ کے طواف کے دو پھیرے چھوڑ نے کا کفارہ

Fatwa no.
2668-WAT

Question

میر اسوال یہ ہے کہ میں مکہ شریف میں عمرہ کرنے کے لیے گیا تھا میں طواف کے پانچ پھیرے کر کے باہر آیا تو پھر مجھے بعد میں پتا چلا کہ سات پھیرے کرنے ہوتے ہیں تو میرے لیے اس صورت میں کیا ہے ؟

Answer (beginning)

ایسی صورت میں واپس خانہ کعبہ شریف کے پاس جا کر دو مزید چکر لگا کر اپنے سات چکر پورے کرنے چاہیں کیونکہ عمرہ کے طواف کا ایک پھیر ا چھوڑ دینے سے بھی دم لازم ہو جاتا ہے، لہذا پوچھی گئی صورت میں اگر دو چکر نہ لگائے تو آپ پر دم لازم ہے۔ اور اگر کسی نے طواف کے تمام یا اکثر پھیرے چھوڑ دیئے یعنی 4 سے کم چکر لگائے ، تو اب دم کفایت نہیں کرے گا، دم اقل چکروں یعنی 3 یا اس سے کم چکروں کے لیے کفایت کرتا ہے۔ چنانچہ لباب المناسک میں طواف عمرہ کے متعلق ہے: "وكذالوترك منه أقله ولو شوطاً فعليه دم، وإن أعاده سقط عنه الدم.

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.