Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

مسجد کا چندہ کاروبار میں لگانا کیسا؟

Fatwa no.
2653-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) مسجد کے چندے کی رقم اگر مسجد کے اخراجات سے زیادہ ہو تو اسے جائز کاروبار میں لگا کر مسجد کی آمدنی کا ذریعہ بنائیں، تو اس کے متعلق کیا حکم شرع ہے ؟

Answer (beginning)

مسجد کا چندہ مسجد میں کیے جانے والے عمومی اخراجات مثلاً تعمیرات ، امام و مؤذن ، خادمین کے وظائف اور صفائی ستھرائی میں ہونے والے اخراجات وغیرہ کے لیے دیا جاتا ہے ، اسے انہی مصارف میں استعمال کرناضروری ہے ، ذاتی استعمال میں لانا، یا اس کو کاروبار میں لگانا یا کسی کو بطور قرض دینا یا مصارف مسجد کے علاوہ میں خرچ کرنا، ناجائز و گناہ ہے ، لہذ ا چندہ اگر چہ اضافی ہو ، اسے کسی کاروبار میں لگانے کی ہر گز اجازت نہیں ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.