Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

عادت کے دن مکمل ہونے سے پہلے حیض کا خون رک جائے تو نماز کا حکم

Fatwa no.
2650-WAT

Question

كا حكم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کسی اسلامی بہن کے حیض کی عادت 6 دن ہے لیکن اس بار 5 دن خون آیا تو کیا حکم ہے 6 دن مکمل کرے گی یا 5 دن پر نماز پڑھنا شروع کر دے گی ؟

Answer (beginning)

اگر کسی اسلامی بہن کو پہلے 6 دن حیض آتا تھا، اس بار 5 دن پر رک گیا، تو اس کے لیے حکم یہ ہے کہ وہ غسل کر کے نماز پڑھنا شروع کر دے، جتنے دن پچھلی بار آیا، نماز پڑھنے کیلئے اس کے مکمل ہونے کا انتظار نہیں کرے گی۔ البتہ اگر شادی شدہ ہے تو شوہر سے ملنے کے لئے عادت کے دن پوچھی گئی صورت میں 6 دن ) ختم ہونے کا انتظار کرنالازم ہے۔ بہار شریعت میں ہے ”عادت کے دن پورے ہونے سے پہلے ہی ختم ہو گیا تو اگر چہ غسل کرلے جماع نا جائز ہے تاوقتیکہ عادت کے دن پورے نہ ہو لیں، جیسے کسی کی عادت چھ ۶ دن کی تھی اور اس مرتبہ پانچ ہی روز آیا تو اسے حکم ہے کہ نہا کر نماز شروع کر دے مگر جماع کے لیے ایک دن اور انتظار کرنا…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.