Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بہنوئی کو زکوۃ دینا
- Fatwa no.
- 2649-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر بہن صاحب نصاب ہے لیکن بہنوئی صاحب نصاب نہیں تو کیا اسے زکوۃ دے سکتے ہیں ؟
Answer (beginning)
بہنوئی اگر واقعی مستحق زکوۃ ہے یعنی اس کی ملکیت میں حاجت اصلیہ اور قرض سے زائد ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی قیمت کے برابر کسی قسم کا مال نہیں اور وہ سید یا ہاشمی بھی نہیں تو اسے زکوۃ دے سکتے ہیں۔ امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان رحمتہ اللہ تعالی علیہ سے سوال ہوا کہ کسی شخص نے اپنے مال میں سے زکوۃ نکالی وُہ روپیہ ان شخصوں کو دینا چاہئے یا نہیں ؟۔۔۔ یہ کہ اگر بہنوئی کو کچھ دے دیا جائے تو جائز ہے یا نہیں ؟ تو آپ نے جو ابا ارشاد فرمایا: " بشر یا مذکورہ جائز ہے (یعنی جبکہ غنی ہاشمی نہ ہو ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.