Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

باقی رہ جانے والی قسطیں، نصاب سے مائنس ہوں گی یا نہیں؟

Fatwa no.
2648-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ہم قسطوں پر چیزیں خریدتے ہیں، بقایا اقساط کی جور قم ہے اسے نصاب سے الگ شمار کیا جائے گا یا نہیں ؟

Answer (beginning)

جتنی اقساط باقی ہیں، انہیں نصاب سے مائنس کر کے بقیہ نصاب پر دیگر شرائط کی موجودگی میں زکوۃ لازم ہو گی۔ وو 66 چنانچہ در مختار میں ہے " (فلازكاة على--مديون للعبد بقدر دينه) فیز کی الزائد ان بلغ نصاب ترجمہ : جس پر کسی بندے کا قرض ہو ، اُس قرض کی مقدار ز کوۃ نہیں ہو گی۔ ہاں ! اگر قرض نکال کر بچنے والا بقیہ مال، نصاب کو پہنچ جائے ، تو اُس کی زکوۃ دینی گی۔ (درمختار مع رد المحتار، کتاب الزكاة،ج2، ص263، دارالفکر،بیروت) وَ اللهُ أَعْلَمُ عَدَدَ جَكَ وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّم دام الان اهاست Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.daruliftaahlesunnat.net f…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.