Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
عید کے دن نئے کپڑے پہننے کا حکم
- Fatwa no.
- 2625-WAT
- Issued
- 25 رمضان المبارک 1445ھ / 05 اپریل 2024ء
Question
دار الافتاء اہلسنت دعوت اسلامی) کیا عید کے دن نئے کپڑے پہننا ضروری ہے ؟ اگر کوئی مالدار ہے اور نئے کپڑے نہ پہنے تو کیا وہ گنہگار ہو گا ؟
Answer (beginning)
عید کے دن اچھے اور عمدہ کپڑے پہنا مستحب ہے ، نئے ہوں تو نئے ورنہ دھلے ہوئے۔لہذا عید کے دن نئے کپڑے پہننے کی استطاعت ہے تو ثواب کے لئے نئے کپڑے پہنے جائیں وگرنہ گھر میں جو عمدہ کپڑے دھلے ہوئے ہوں ، وہی پہن لئے جائیں۔ البتہ ! عید کے دن نئے کپڑے پہننا ضروری نہیں، اگر کوئی مالدار نئے کپڑے نہیں پہنتا تو گنہگار نہیں ہو گا۔ وو فتاوی ہندیہ میں ہے ” ويستحب یوم الفطر للرجل الاغتسال والسواك ولبس أحسن ثيابه۔۔۔ جديدا كان أو غسيلا، كذافي محيط السرخسی ترجمہ: عید الفطر کے دن آدمی کے لئے غسل کرنا، مسواک کرنا اور اچھے کپڑے پہننا مستحب ہے ، چاہے وہ نئے ہوں یا دھلے ہوئے ہوں جیسا کہ محیط سرخسی میں ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.