Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

زکوۃ کی رقم سے شادی کروانے کا حکم

Fatwa no.
2616-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) زکوۃ کی رقم سے کسی کی شادی کروا دینا کیسا؟

Answer (beginning)

زکوۃ کی رقم شادی کے اخراجات جیسے ہال کی بکنگ یا دعوت کے کھانے وغیرہ میں ، شرعی فقیر کو مالک بنائے بغیر ، خود سے صرف کی تو زکوۃ ادا نہیں ہو گی ، اور اگر شرعی فقیر کو مالک بنا دیا، پھر اس نے شادی کے اخراجات میں رقم خرچ کی یا اس کی اجازت سے کسی اور نے خرچ کی تو زکوۃ ادا ہو جائے گی، یونہی شادی میں جو سامان یعنی فرنیچر کپڑے، بر تن دو وغیرہ دیئے جاتے ہیں وہ مستحق زکوۃ کو زکوۃ کی نیت سے دیئے تو اس سے بھی زکوۃ ادا ہو جائے گی۔ در مختار میں ہے " يشترط ان يكون الصرف تملیکا لا اباحة “ترجمہ : زکوۃ ادا کرنے میں بطورِ تملیک خرچ کرنا شرط ہے نہ کہ بطورِ اباحت۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.