Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

زکوۃ کے وکیل کا اپنی بیوی کو زکوۃ دینا

Fatwa no.
2613-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) زید اپنے مستحق رشتہ داروں کے لیے اغنیاء اور مالداروں سے زکوۃ وصول کرتا ہے، اور مستحق رشتہ داروں تک پہنچاتا ہے ، اور اس میں سے کچھ حصہ اپنی مستحق زکو بیوی کو بھی دیتا ہے۔ کیا بیوی کو اس طرح زکوۃ دینے سے زکوۃ ادا ہے، اور اسمیں سے ہیوی کو دیتاہے۔ کیا بیوی کواس سے ادا ہو جائے گی؟

Answer (beginning)

اگر زکوۃ دینے والوں نے خاص افراد کو زکوۃ دینے کا نہیں کہا تو زید اپنی بیوی کو زکوۃ دے سکتا ہے ، بشر طیکہ وہ مستحق زکوۃ ہو ( یعنی فقیرہ شرعیہ ہو اور سید یا ہاشمی نہ ہو)۔ بحر الرائق میں ہے ” رجل دفع زكاة ماله إلى رجل وأمره بالاداء فأعطى الوكيل ولد نفسه الكبير أو الصغير أو امرأته وهم محاویج جاز ترجمہ: فتاوی ظہیر یہ میں ہے کہ ایک شخص نے اپنی زکوۃ دوسرے شخص کو دی اور اسے زکوۃ ادا کرنے کا حکم دیا تو وکیل وہ زکوۃ اپنے بڑے یا چھوٹے بیٹے یا اپنی بیوی کو دے سکتا ہے جبکہ وہ یا چھ محتاج ہوں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.