Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

شعبان المعظم کی 29 اور 30 تاریخ کا روزہ رکھنا

Fatwa no.
2611-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا شعبان کی 30، 29 کا روزہ رکھ سکتے ہیں ؟

Answer (beginning)

29 شعبان کا روزہ تو بہر حال رکھ سکتے ہیں اور یوم اشک یعنی شعبان کی تیسویں تاریخ کو صرف نفل کی نیت سے روزہ رکھ سکتے ہیں، نفل کے علاوہ کوئی بھی روزہ مثلاً فرض، واجب یا مطلق نیت سے رکھنا مکروہ ہے اور رمضان المبارک کی نیت سے روزہ رکھنا مکروہ تحریمی ہے ، ورنہ مقیم کے لیے تنزیہی اور مسافر نے اگر کسی واجب کی نیت کی تو کراہت نہیں۔ چنانچہ بہار شریعت میں ہے "یوم الٹک یعنی شعبان کی تیسویں تاریخ کو نفل خالص کی نیت سے روزہ رکھ سکتے ہیں اور نقل کے سوا کوئی اور روزہ رکھا تو مکروہ ہے، خواہ مطلق روزہ کی نیت ہو یا فرض کی یا کسی واجب کی ، خواہ نیت معین کی کی ہو یا تردد کے ساتھ یہ سب صورتیں مکروہ ہیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.