Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

منہ ناپاک ہوجائے تو کیسے پاک کریں ؟

Fatwa no.
2609-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) میرا سوال یہ ہے کہ کسی نے جان بوجھ کر یا غلطی سے ناپاک پانی پیا تو اس کا منہ کیسے پاک ہو گا ؟

Answer (beginning)

سب سے پہلے تو یہ مسئلہ ذہن نشین رہے کہ جان بوجھ کر نا پاک پانی پینانا جائز و حرام ہے ہاں اگر کسی نے غلطی سے یا بھول کر پیا تو اس پر گناہ نہیں۔ اب اگر نا پاک پانی پینے یا کسی اور چیز کی وجہ سے منہ ناپاک ہو گیا تو اس کے پاک کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ پاک پانی سے اچھی طرح کلی کر کے نجاست کے اثر کو زائل کرے، اس طرح منہ پاک ہو جائیگا اور اگر کلی نہ کی اور چند بار تھوک کا گزر نجاست کی جگہ پر ہوا خواہ نگلنے میں یا تھوکنے میں یہاں تک کہ نجاست کا اثر ختم ہو گیا تو بھی منہ پاک ہو جائیگا، اگر چہ ایسا نجس تھوک نگلنا بھی سخت نا پاک بات اور گناہ ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.