Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بیت الخلاء میں ننگے سر جانا کیسا ہے ؟
- Fatwa no.
- 2008-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) بیت الخلاء میں ننگے سر جانا کیسا ہے ؟
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں حکم شرع یہ ہے کہ سر ڈھانپ کر بیت لخلاء جانا چاہیئے، کیونکہ ننگے سر بیت الخلاء میں جانا منع ہے اور حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی سر ڈھانپ کر بیت الخلاء میں جانا ثابت ہے لہذا سر ڈھانپ کر ہی بیت الخلاء میں جانا چاہیے۔ ہاں البتہ اگر کوئی ننگے سر بھی بیت الخلاء جاتا ہے تو شرعا کوئی گناہ نہیں۔ چنانچہ سنن الکبری للبیہقی میں ہے: ” كان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم إذا دخل الخلاء لبس حذاءه، و غطى رأسه ترجمه : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت الخلاء میں داخل ہوتے تو اپنے جوتے پہن لیتے اور اپنے سر کو ڈھانپ لیتے تھے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.