Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
سر کے اشارے سے سلام کرنا اور اس سلام کا جواب دینا
- Fatwa no.
- 2606-WAT
- Issued
- 18 رمضان المبارک 1445ھ / 29 مارچ2024ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا سر کے اشارے سے سلام کیا جا سکتا ہے؟ اور ایسے سلام کرنے سے سلام کا جواب دینا واجب ہو گا ؟ اگر گاڑی وغیرہ میں سفر کر رہے ہوں تو کیا سر کے اشارے سے سلام کا جواب دے سکتے ہیں ؟
Answer (beginning)
سر کے اشارے سے سلام کرنا منع ہے، ایسے سلام کا جواب دینا بھی لازم نہیں۔ اگر کسی نے سلام کیا تو سر یا ہاتھ کے اشارہ سے جواب دینا بھی منع ہے بلکہ اس صورت میں سلام کا جواب ہی شمار نہ ہو گا ان کو منہ سے سلام کا جواب دینا لازم ہو گا۔ بہار شریعت میں ہے " انگلی یا ہتھیلی سے سلام کرنا ممنوع ہے۔ حدیث میں فرمایا کہ "انگلیوں سے سلام کرنا یہودیوں کا طریقہ ہے اور مہتھیلی سے اشارہ کرنا نصاری کا۔ بعض لوگ سلام کے جواب میں ہاتھ یا سر سے اشارہ کر دیتے ہیں، بلکہ بعض صرف آنکھوں کے اشارہ سے جواب دیتے ہیں یوں جواب نہیں ہوا، ان کو موٹھ سے جواب دینا واجب 66 ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.