Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

عشاء کی اذان کے بعد سونا، پھر اٹھ کر نماز پڑھنا

Fatwa no.
2601-WAT
Issued
16 رمضان المبارک 1445ھ / 27 مارچ2024ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) عشاء کی اذان کے بعد سو گئے اور پھر اٹھ کر نماز پڑھی، تو نماز ہو جائے گی ؟

Answer (beginning)

نماز عشا سے پہلے سونا مکروہ ہے لیکن اگر کسی نے سو کر اٹھنے کے بعد عشا کی نماز پڑھی تو نماز ہو جائے گی۔ ہاں! جماعت واجب ہونے کی صورت میں اگر جماعت مل گئی تو ٹھیک ورنہ بلاوجہ جماعت چھوڑنے کا گناہ ہو گا۔ اسی طرح اگر نیند کی وجہ سے عشا کا وقت ہی نکل گیا، اس کے بعد نماز پڑھی تو بلا عذر شرعی نماز قضا کرنے کا گناہ ہو گا۔ در مختار میں ہے " ویکرہ النوم قبل العشاء "ترجمہ: اور عشا سے پہلے سونا، مکروہ ہے۔(الدرالمختار مع ردالمحتار، كتاب الصلوۃ،ج02،ص55، کوئٹہ) امام اہل سنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں: "پانچوں وقت کی نماز مسجد میں جماعت کے ساتھ واجب ہے، ایک وقت کا بھی بلا عذر ترک گناہ ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.