Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
تین رکعت تراویح پڑھانے کا حکم
- Fatwa no.
- WAT2600
- Issued
- 16 رمضان المبارک 1445ھ / 27 مارچ2024ء
Question
(دعوت اسلامی) میر اسوال یہ ہے کہ تراویح کی ہیں رکعت میں اگر کسی امام نے دوسری رکعت میں قعدہ نہیں کیا اور بھولنے کی وجہ سے تیسری رکعت پر سلام پھیر دیا تو کیا اس میں دور کعت شمار کی جائیں گی یا تینوں رکعت فاسد ہو جائیں گی ؟
Answer (beginning)
تین رکعات تراویح اس طور پر ادا کیں کہ دوسری پر قعدہ نہیں کیا تھا تو تینوں رکعت فاسد ہو جائیں گی ، دور کعت شمار نہیں ہوں گی۔ تراویح کے متعلق محیط برہانی میں ہے " إذا صلى ثلاثا بتسليمة واحدة ولم يقعد على رأس الثانية، ساهيا أو عامد الاشك أن صلاتہ باطلہ ترجمہ : کسی نے تین رکعتیں ایک سلام کے ساتھ ادا کیں اور دوسری رکعت پر بھول کر یا جان بوجھ کر قعدہ نہیں کیا تو اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کی نماز باطل ہو جائے گی۔ (محیط برهانی، ج 1، ص 464، دار الكتب العلمية، بيروت) بہار شریعت میں ہے " تین رکعت پڑھ کر سلام پھیرا، اگر دوسری پر بیٹھا نہ تھا تو نہ ہوئیں ان کے بدلے کی دو رکعت پھر پڑھے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.