Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
پستان کا پانی پلانے سے رضاعت ثابت ہوگی یا نہیں ؟
- Fatwa no.
- 2599-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر ایسی بوڑھی عورت ہے جو اب بچہ پیدا نہیں کر سکتی اور نہ ہی اب اس کو حیض آتا ہے اگر وہ اپنا پستان شیر خوار بچے کے منہ ڈالے اور پستان سے پانی نکل آئے اور وہ بچہ پی لے تو وہ بوڑھی عورت اس بچے کی رضاعی ماں ہوگی ؟
Answer (beginning)
مذکورہ صورت میں اگر اس بڑھیا عورت نے بچے کو دودھ پلایا، جبکہ اسے دودھ اترتا ہے تو ایسی صورت میں رضاعت ثابت ہو جائے گی، کیونکہ دودھ پلانے میں بڑھیا یا جوان ہونے کا فرق نہیں، البتہ سوال میں پانی نکل آنے کا ذکر ہے، تو اگر واقعی وہ پانی تھا دودھ نہیں تھا تو اس سے رضاعت ثابت نہیں ہو گی کہ رضاعت دودھ پلانے سے ثابت ہوتی ہے۔ در مختار میں ہے ”الرضاع (هو)۔۔۔ شرعا (مص من ثدي آدمية) ولوبكرا أوميتة أو آيسة۔۔۔(في وقت مخصوص) ترجمہ : رضاعت کا شرعی معنی ہے: مخصوص وقت میں عورت کی چھاتی چوسنا، چاہے وہ عورت کنواری ہو ، مردہ ہو یا بوڑھی ہو۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.