Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

تراویح کے بغیر روزے کا حکم

Fatwa no.
2587-WAT

Question

کیا تر اویح کے بغیر روزہ ہو سکتا ہے؟

Answer (beginning)

روزہ الگ عبادت ہے اور تراویح مستقل الگ عبادت ہے لہذا اگر کسی نے روزہ رکھا اور تراویح ادا نہیں کی تو اس کا روزہ تو ادا ہو جائے گا، لیکن بلا عذرا یک بار بھی تراویح چھوڑنا اسامت ہے اور چھوڑنے کی عادت بنالینے کی وجہ سے گنہگار ہو گا۔ مراقی الفلاح شرح نور الایضاح میں ہے " وهي سنة الوقت لا سنة الصوم في الأصح فمن صار أهلا للصلاة في آخر اليوم يسن له التراويح كالحائض إذا طهرت والمسافر والمريض المفطر “ ترجمہ : اصح قول کے مطابق تراویح وقت کی سنت ہے، روزے کی سنت نہیں، تو جو دن کے آخری حصے میں نماز کا اہل ہو ، اس کے لیے تراویح سنت ہے جیسا کہ حائضہ عورت جب پاک ہو جائے ، مسافر اور روزہ چھوڑنے والا مریض۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.