Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نماز میں عورت کی کلائی نظر آرہی ہو تو نماز کا حکم
- Fatwa no.
- 2586-WAT
- Issued
- 11 رمضان المبارک 1445ھ / 22 مارچ 2024ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر نماز میں اسلامی بہن کی کلائی نظر آرہی ہو تو کیا نماز ہو جائے گی ؟ کیا پوری کلائی کا بھی چھپانا ضروری ہے ؟
Answer (beginning)
عورت کی پوری کلائی ستر میں داخل ہے، اور نماز میں عورت کی کلائی نظر آرہی ہو تو اس کے متعلق حکم شرعی یہ ہے اگر کلائی چوتھائی مقدار یا اس سے زائد نماز شروع کرتے وقت سے ہی کھلی ہوئی تھی، تو نماز شروع ہی نہیں ہو گی اور اگر چوتھائی سے کم کھلی ہوئی ہو تو نماز ہو جائے گی۔ اور اگر دوران نماز کم از کم ایک چوتھائی کی مقدار کو قصد اکھولا تو نماز فاسد ہو جائے گی اگرچہ فوراً چھپا لیا ہو۔ اور اگر بغیر قصد کے کھلی تو اگر بقدر ایک رکن یعنی تین بار سبحان اللہ کہنے کی مقدار کھلی رہی، تو نماز فاسد ہو جائے گی اور اگر تین مرتبہ سبحان اللہ کہنے کی مقدار سے پہلے ہی کلائی کو چھپا لیا تو نماز ہو جائے گی۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.