Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

شرمگاہ میں گولی رکھنے سے روزے اور وضو کا حکم

Fatwa no.
2584-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) حمل میں ایک گولی اندر رکھنے کے لیے ڈاکٹر نے دی ہے، کیا اس کے بعد وضو لازمی ہے ؟ کیا اس سے وضو ٹوٹ جائے گا؟ اور کیا اسے رکھنے سے روزہ تو نہیں ٹوٹے گا؟

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں جب وہ گولی اندر رکھیں، تو اگر اس کے بعد وہ ثابت حالت میں یا گھل کر باہر نکلی اور اس کے ساتھ نجاست (خون، پیپ وغیرہ) بھی باہر آئی، تو وضو ٹوٹ جائے گا اور اگر نجاست باہر نہ آئی (یا تو کچھ بھی باہر نہ آیا، یا آیا تو خالص سفید پانی) تو وضو نہیں ٹوٹے گا۔ نیز وہ گولی رکھنے کے بعد کھل کر اندر جاتی ہے ، لہذا اسے روزے کی حالت میں نہیں رکھ سکتے ، ورنہ اندر جانے کی صورت میں روزہ ٹوٹ جائے گا اور قضا لازم ہو گی۔ بہار شریعت میں ہے: ”عورت نے کپڑار کھا اور فرج خارج میں اس کپڑے پر کوئی اثر نہیں، مگر جب نکالا ، تو خون یا کسی اور نجاست سے تر نکلا، اب وضو جاتا رہا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.