Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
عشاء جماعت سے نہ پڑھی تو وتر جماعت سے پڑھنا
- Fatwa no.
- 2579-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر عشاء کی نماز جماعت کے ساتھ ادانہ کی ہو ، تو کیا وتر جماعت کے ساتھ پڑھ سکتے ہیں؟
Answer (beginning)
رمضان المبارک میں اگر کسی کی عشاء کی جماعت فوت ہو گئی اور اس نے نماز عشاء تنہا پڑھی ہو ، تو اسے چاہئے کہ وتر بھی تنہا پڑھے۔ فقہائے کرام نے اس کی وجہ یہ بیان فرمائی کہ وتر کی جماعت، جماعت عشاء کے تابع ہے ، تو جب عشاء کی نماز جماعت سے رہ گئی ، تو وتر بھی جماعت سے نہیں پڑھے جائیں گے۔ رد المحتار میں ہے " ثم رأیت القهستاني ذكر تصحيح ما ذكره المصنف، ثم قال: لكنه إذالم يصل الفرض معه لا يتبعه في الوتراھ۔۔۔۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.