Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

فقیر کو پیسے دینے کے بعد زکوۃ کی نیت کرنا

Fatwa no.
2568-WAT
Issued
05 رمضان المبارک 1445ھ / 16 مارچ2024ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کوئی عورت کچھ عرصہ پہلے ہی فقراء کو پیسے دے چکی ہو تو کیا اب وہ ان پیسوں میں زکوۃ کی نیت کر سکتی ہے جبکہ وہ پیسے ان لوگوں نے ابھی تک استعمال نہیں کئے اور ان لوگوں کو زکاۃ بھی لگتی ہے؟

Answer (beginning)

صورتِ مسئولہ میں اگر رقم ابھی زکوۃ کے مستحق افراد کے پاس موجود ہے ، (یعنی جن کو دی تھی وہ شرعی فقیر تھے اور سید یا ہاشمی نہیں تھے اور ر تم ابھی ان کے پاس ہی موجود ہے ) تو اس میں زکوۃ کی نیت کی جاسکتی ہے۔ وو فتاوی ہندیہ میں ہے ” و إذا دفع إلى الفقير بلانية ثم نواه عن الزكاة فإن كان المال قائما في يد الفقير أجزاء، وإلا فلا كذا في معراج الدراية "ترجمہ: فقیر کو بغیر نیت ز کو دے دی، پھر دینے کے بعد زکوۃ کی نیت کی تو اگر مال فقیر کے پاس موجود ہو تو یہ نیت کفایت کر جائے گی اور اگر مال فقیر کے پاس موجود نہ رہاتو نیت کفایت نہیں کرے گی، جیسا کہ معراج الدرایہ میں ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.