Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

لواطت کو جائز سمجھنے والے کا حکم

Fatwa no.
2565-WAT

Question

(دعوت اسلامی) اگر کوئی شخص لواطت کو جائز بلکہ ثواب کا کام سمجھے تو اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟

Answer (beginning)

لواطت خبیث ترین عمل اور حرام قطعی و گناہ کبیرہ ہے، کوئی سلیم الفطرت شخص اس گھناؤنے اور غلیظ کام کو نہ جائز کہہ سکتا ہے نہ ہی معاذ اللہ پسند کر سکتا ہے، اور جو شخص معاذ اللہ اس کو جائز سمجھے وہ کافر ہے۔ لواطت کی مذمت بیان کرتے ہوئے رب تبارک و تعالی ارشاد فرماتا ہے: وَلُوْطًا إِذْ قَالَ لِقَوْمِةٍ أَتَأْتُونَ الْفَاحِشَةَ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ أَحَدٍ مِّنَ الْعَلَمِينَ) ترجمہ کنز الایمان : اور لوط کو بھیجا جب اس نے اپنی قوم سے کہا کیا وہ بے حیائی کرتے ہو جو تم سے پہلے جہان میں کسی نے نہ کی ؟

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.