Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
میت کی طرف سے نفلی حج کرنے کی نیت کا طریقہ
- Fatwa no.
- 2564-WAT
- Issued
- 01 رمضان المبارک 1445ھ /12 مارچ 2024ء
Question
(دعوت اسلامی) میں نے فرض حج کر لیا ہے ، اب میں اپنی مرحوم والدہ کی طرف سے نفلی حج کرنا چاہتی ہوں، تو اس صورت میں مجھے احرام باندھتے وقت کیا نیت کرنی ہو گی ؟ نیز طواف، قربانی و غیر ہ میں کیانیت کی جائے گی ؟
Answer (beginning)
مرحوم والدہ کی طرف سے نفلی حج کرنے کی صورت میں آپ احرام باندھتے وقت اپنی والدہ کی طرف سے نفلی حج ادا کرنے کی نیت کر لیں، افضل یہ ہے کہ زبان سے بھی نویت الحج عن فلان اور لبيك عن فلان ( فلاں کی جگہ والدہ کا نام ) کہہ لیں، اس کے بعد اب طواف، سعی، قربانی وغیرہ میں کسی خاص نیت کی حاجت نہیں۔ لباب المناسک اور اس کی شرح میں ہے: ” ( وإن كان احرامه عن الغير) أى نيابة أو تطوعا (فلينو عنه) وهذا متعين (ثم ان شاء قال : لبيك عن فلان) وهو الافضل “ترجمہ : اور اگر کسی دوسرے شخص کی طرف سے احرام باندھا ہو ، چاہے اس کا نائب بن کر یا اپنی خوشی سے ، دونوں صورتوں میں اس دوسرے شخص کی طرف سے احترام کی نیت کرے (یعنی دل…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.