Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بیچنے کی نیت سے پلاٹ لیا، پھر نیت بدل گئی توکیا مالِ تجارت رہے گا؟
- Fatwa no.
- 2557-WAT
Question
بیچنے کی نیت سے پلاٹ لیا پھر کچھ وقت بعد نیت بدل گئی تو یہ مال تجارت رہے گا یا نہیں ؟ زکوۃ کا کیا حکم ہو گا ؟
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں اگر پلاٹ خریدتے وقت بیچنے کی نیت ہو، تو اس پلاٹ کی زکوۃ لازم ہو گی، لیکن اگر بعد میں تجارت کے علاوہ کوئی اور نیت مثلاً: خو د رہائش رکھنے وغیرہ کی نیت کرلے، تو پھر وہ مالِ تجارت نہیں رہے گا اور اس کی زکوۃ لازم نہیں ہو گی۔ در مختار میں ہے ” ( لا يبقى للتجارة ما ) أي عبد مثلا (اشتراه لهافنوى) بعد ذلك (خدمته ثم) مانواه للخدمة (لا يصير للتجارة) وإن نواه لها "ترجمہ : وہ یعنی مثلا غلام تجارت کے لیے باقی نہیں رہا جسے تجارت کے لیے خرید اپھر بعد میں اس سے خدمت لینے کی نیت کر لی۔ پھر جسے خدمت کے لیے رکھنے کی نیت کر لی ، تو وہ تجارت کے لیے نہیں ہو گا، اگر چہ تجارت کی نیت بھی کرلے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.