Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا دو آدمی مل کر تراویح پڑھا سکتے ہیں؟

Fatwa no.
2540-WAT

Question

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ؟ کیا دو لوگ تراویح سنا سکتے ہیں، مثلاً دس رکعات ایک بندہ اور دس رکعات دوسرا بندہ پڑھائے، توتر او یخ ہو جائے گی

Answer (beginning)

دو افراد مل کر تراویح پڑھا سکتے ہیں، اس میں شرعا حرج نہیں اور مستحب طریقہ یہ ہے کہ ترویحہ (ہر چار رکعت پر کچھ وقت وقفہ کرنے کو ترویجہ کہتے ہیں) مکمل کرنے کے بعد دوسرا شخص آگے آئے ، مثلاً آٹھ ایک کے پیچھے اور بارہ دوسرے کے۔ لہذا ترویحہ سے پہلے ، مثلاً دو یا چھ رکعت کے بعد امام کا بدل جانا، بہتر نہیں،البتہ نماز ہو جائے گی۔ بحر الرائق میں ہے: وفي الخلاصة إذا صلى الترويحة الواحدة إمامان كل إمام ركعتين اختلف المشايخ والصحيح أنه لا يستحب ولكن كل ترويحة يؤديها إمام واحد“ ترجمہ : خلاصہ میں ہے کہ جب ایک ترویجہ دو امام یوں پڑھائیں کہ ہر امام دور کعتیں پڑھائے تو اس میں مشائخ کا اختلاف ہے صحیح یہ ہے کہ…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.