Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
سنن و نوافل گھر میں پڑھنا کیسا ؟
- Fatwa no.
- 2539-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) فرائض مسجد میں ادا کئے جائیں لیکن سنن و نوافل کی ادائیگی گھر میں کی جائے اور اسی کا معمول ہو ، تو یہ طریقہ درست ہے یا نہیں؟
Answer (beginning)
سنن و نوافل کو گھر میں ادا کرنا بالکل جائز ہے، سرکار علیہ الصلوۃ والسلام کا عمل مبارک بھی یہی تھا، تاہم فی زمانہ مسلمانوں میں سنن و نوافل کو مسجد میں ادا کرنے کا معمول ہے، اور اس کی مخالفت لوگوں کے طعن و غیبت وغیر ہا مفاسد کا باعث ہے، لہذا فی زمانہ سنن و نوافل کی ادائیگی مسجد میں ہی کی جائے۔ فتاوی رضویہ میں ہے: "سنن و نوافل کا گھر میں پڑھنا افضل، اور یہی رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی عادت طیبہ ۔۔۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.