Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

مہر کی رقم کی شرعی حیثیت اور لڑکی کا اپنی مرضی سے رقم لکھوانا

Fatwa no.
2522-WAT

Question

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) میر اسوال یہ ہے کہ مہر کی رقم کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟ اور کیا لڑ کی اپنی مرضی سے رقم لکھو اسکتی ہے اور رقم کی جگہ کوئی اور چیز لکھو اسکتی ہے یار تم ہی لکھوانا ضروری ہے؟

Answer (beginning)

نکاح میں عورت کو مہر دینا واجب وضروری ہے ، چاہے معجل (فوراً) ہو یا مؤجل (بعد میں ) ہو۔ اور لڑکی اپنی مرضی سے بھی مہر کی رقم لکھوا سکتی ہے، یعنی جو باہمی رضامندی سے طے پا جائے۔ ہیں۔ نیز صرف رقم لکھوانا ہی ضروری نہیں بلکہ رقم کے علاوہ ہر ایسی چیز جس کو شر عامہر بنانا درست ہو ، وہ بھی لکھو اسکتے بحر الرائق میں ہے ” المهر واجب شرعا ترجمہ : ( نکاح میں ) مہر دینا شرعاً واجب ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.