Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

مقررہ تعداد والے وظیفے کو زیادہ تعداد میں پڑھنا

Fatwa no.
2519-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) جو تسبیح یا وظیفہ 27 یا 33 مرتبہ یا100 مرتبہ پڑھنے کا حکم ہوتا ہے، اگر اس کو مقررہ تعداد سے زیادہ پڑھ لیا تو وظیفے پر کوئی اثر پڑتا ہے یا نہیں ؟

Answer (beginning)

جن اوراد و وظائف کے لیے مخصوص تعداد بیان کی گئی ہو، ان کے فوائد حاصل کرنے کے لیے انہیں اسی مخصوص تعداد میں پڑھنا ہوتا ہے ، جان بوجھ کر اس سے کم یا زیادہ نہیں کر سکتے، البتہ ! اگر تعداد میں شک ہو جائے تو تعداد کو پورا کرنے کے لیے زیادہ پڑھا جاسکتا ہے اور یہ زیادہ پڑھنا نہیں ہے بلکہ تعداد مکمل کرتا ہے۔ چنانچہ اس حوالے سے مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ نے فرمایا: ” احادیث میں کسی دُعا کی نسبت جو تعد اد وارد ہے اس سے کم زیادہ نہ کرے کہ جو فضائل ان اذکار کے لیے ہیں ، وہ اسی عدد کے ساتھ مخصوص ہیں، ان میں کم زیادہ کرنے کی مثال یہ ہے کہ کوئی قفل کسی خاص قسم کی کنجی سے کھلتا ہے، اب اگر کنجی میں…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.