Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
اعلانیہ گناہ کی اعلانیہ توبہ کرنا کہاں سے ثابت ہے ؟
- Fatwa no.
- 2516-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اعلانیہ گناہ کے لیے اعلانیہ تو بہ کرناضروری ہے، کیا یہ قرآن یا کسی حدیث سے ثابت ہے ؟
Answer (beginning)
حدیث پاک کے مطابق جیسا گناہ ہوتا ہے ، اس کی تو بہ بھی ویسی ہی ہوتی ہے، پوشیدہ گناہ کی تو بہ بھی پوشیدہ اور اعلانیہ گناہ کی تو بہ بھی اعلانیہ ہوتی ہے۔ چنانچہ معجم کبیر للطبرانی میں ہے : ” عن معاذ قال: قلت: يا رسول الله، أوصني ، فقال : عليك بتقوى الله ما استطعت، واذكر الله عند كل حجر و شجر، وما عملت من سوء فأحدث الله فيه توبة: السر بالسر، والعلانية بالعلانية “ ترجمہ : حضرت معاذرضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول مجھے کوئی وصیت کیجیے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی استطاعت کے مطابق تقوی اختیار کرو، ہر پتھر اور درخت کے پاس اللہ پاک کا ذکر کرو، جب تم سے…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.