Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

میت کو غسل دینے کے بعد نجاست نکلے تو کیا حکم ہے ؟

Fatwa no.
2514-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) میت کو دو بار غسل دینا کیسا ہے اور اگر پہلے غسل کے بعد اس سے نجاست ظاہر ہو، تو کیا پھر سے غسل دینا ہو گا؟

Answer (beginning)

جب کوئی شخص فوت ہو جائے، تو اسے ایک ہی غسل دیا جائے گا جس میں سارے جسم پر تین بار پانی بہاناسنت ہے)۔ اور ایک بار غسل دینے کے بعد دوبارہ غسل کی مطلقا کسی حال میں حاجت نہیں، یہاں تک کہ اگر غسل کے بعد کوئی نجاست بر آمد ہو ، تو بھی نئے سرے سے غسل نہ دیا جائے، بلکہ صرف اس نجاست کو دھو دیا جائے، یہی کافی ہے۔ اللباب فی شرح الکتاب میں ہے: ” فان خرج منه شيء غسله لازالة النجاسة عنه ولا يعيد غسله ولا وضوءه، لانه ليس بناقض فی حقہ ترجمہ : غسل کے بعد میت کے بدن سے کوئی چیز خارج ہو ، تو اسے دھو دیا جائے تاکہ اس سے نجاست زائل ہو جائے اور وضو و غسل کا اعادہ نہیں کیا جائے گا، کیونکہ یہ میت کے حق میں ناقض نہیں“۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.