Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
دلہا دلہن کے والد اور بھائی کا نکاح کے اندر گواہ بننا
- Fatwa no.
- 2508-WAT
Question
(دعوت اسلامی) دلہا دلہن کے والد نکاح کے اندر گواہ بن سکتے ہیں اور کیا بھائی بھی گواہ بن سکتے ہیں ؟
Answer (beginning)
نکاح کے گواہوں کے اوصاف میں سے ہے کہ وہ دو عاقل بالغ مرد ہوں یا ایک عاقل بالغ مر داور دوعا قلہ بالغہ عورتیں ہوں۔ گواہ بننے کے لئے گواہوں کا غیر محرم ہونا ضروری نہیں، لہذا دلہادلہن کے والد اور بھائی بھی ( دیگر شرائط کی موجودگی میں ) نکاح کے گواہ بن سکتے ہیں۔ وو فتاوی ہندیہ میں ہے ”و ینعقد بحضور من لا تقبل شهادته له أصلاكماإذا تزوج امرأة بشهادةابنيه منھا ترجمہ : ان گواہوں کی موجودگی میں بھی نکاح منعقد ہو جائے گا جن کی گواہی اس کے حق میں اصلا قبول نہیں مثلاً کسی نے عورت سے شادی کی اپنے اس بیٹے کو گواہ بنا کر جو اس عورت کا بھی بیٹا ہے تو بھی نکاح منعقد ہو جائے گا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.