Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

لقوہ کی بیماری میں جسم پر کبوتر کا خون لگانا

Fatwa no.
2505-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) لقوے کا ایک ہو جائے تو اس کیلئے پرندے کا خون لگانا جائز ہو گا ؟

Answer (beginning)

لقوے کے اٹیک کے لیے پرندے کا خون جسم پر لگانا جائز نہیں کیونکہ ایسے موقع پر عموما پرندے کا بہتا ہو اخون لگایا جاتا ہے اور بہتا ہوا خون ناپاک ہوتا ہے اور ناپاک چیز کا خارجی استعمال (یعنی اسے ظاہر بدن پر لگانا) بھی ناجائز و گناہ ہے ،لہذ انا پاک خون جسم پر لگانے کی اجازت نہیں۔ حرام اشیاء کے بطور دوا استعمال کے نا جائز ہونے کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: إن الله أنزل الداء والدواء وجعل لكل داء دواء فتداووا ولا تداووا بحرام“ ترجمہ: بے شک اللہ تعالیٰ نے بیماری اور دوا دونوں کو نازل کیا ہے اور ہر بیماری کے لیے دوار کھی ہے، لہذا ان دواؤں سے علاج کرو، لیکن حرام چیزوں…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.