Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کار رینٹ پر دینا کیسا؟
- Fatwa no.
- 2489-WAT
Question
کیا اپنی کار رینٹ پر دے سکتے ہیں؟
Answer (beginning)
کار یا کسی اور گاڑی کو کرائے پر دینا جائز ہے جبکہ شرعی طریقہ کار کے مطابق کرائے پر دیا جائے، مثلا: جا کرایہ شروع ہی میں طے کر لیا جائے۔ جمعہ اور کتنے وقت کیلئے کرائے پر دینا ہے ، وہ وقت بھی متعین کر دیا جائے۔ ہیں اور اس کرایہ داری کے معاملے میں کسی قسم کی خلاف شرع شرط نہ لگائی جائے مثلاً گاڑی کے مالک کا یہ شرط رکھنا کہ اگر کرائے کی مدت کے دوران اس گاڑی میں کسی قسم کی خرابی یا حادثے کیوجہ سے کوئی نقصان ہو گیا تو اس کا تاوان بہر صورت کرایہ دار پر لازم ہو گا یہ ایسی شرط ہے جو اس عقد کو فاسد کر دے گی۔ غرضیکہ شرعی طریقہ کار کے مطابق رینٹ پر گاڑیوں کا لین دین کرنا، درست ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.