Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کافر کے تھوک کا حکم

Fatwa no.
2482-WAT

Question

(دعوت اسلامی) کبھی کبھی لوگوں کے منہ سے بات کرتے وقت تھوک کی چھینٹیں نکلتی ہیں اگر غیر مسلم کے تھوک کی چھینٹ آجائے تو کیا وہ ناپاک ہے ؟

Answer (beginning)

غیر مسلم کے منہ کا تھوک شرعانا پاک نہیں ہے لیکن اس سے ایسے ہی بچنا چاہئے جیسے تھوک، رینٹھ ، کھنکار کہ پاک ہیں مگر ان سے آدمی گھن کرتا ہے تو کافر کے تھوک کو اس سے بھی بد تر سمجھنا چاہیے۔ البحر الرائق میں ہے ” (وسؤر الآدمي والفرس وما يؤكل لحمه طاهر) أما الآدمي، فلأن لعابه متولد من لحم طاهر ، وإنما لا يؤكل لكرامته ولا فرق بين الجنب والطاهر والحائض والنفساء والصغير والكبير والمسلم والكافر والذكر والأنثى “ یعنی آدمی، گھوڑے اور وہ جانور جن کا گوشت کھایا جاتا ہے، ان سب کا جھوٹا پاک ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.