Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
روزے کی حالت میں حجامہ کروانے کا حکم
- Fatwa no.
- 2478-WAT
- Issued
- 12 شعبان المعظم 1445ھ / 23 فروری 2024ء
Question
دار الافتاء ابلسنت (دعوت اسلامی) روزے کی حالت میں حجامہ کروایا جا سکتا ہے یا نہیں ؟
Answer (beginning)
حجامہ میں جسم کے بعض حصوں سے خون نکالا جاتا ہے اور اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ البتہ روزے کے دوران حجامہ کروانے کی وجہ سے نقاہت (کمزوری) بھی طاری ہو جاری تی ہے، تو اگر اس کی حالت ایسی ہو کہ اس سے اتنی کمزوری ہو جائے گی کہ اپنا روزہ مکمل کرنا مشکل ہو جائے گا، تو روزے میں حجامہ کروانا مکروہ ہو گا اور ایسی صورت میں اسے چاہیے کہ افطاری کے بعد حجامہ کروائے۔ وو فتاوی ہندیہ میں ہے " ولا بأس بالحجامة إن أمن على نفسه الضعف أما إذا خاف فإنه يكره وينبغي له أن يؤخر إلى وقت الغروب وذكر شيخ الإسلام شرط الكراهة ضعف يحتاج فيه إلى الفطر “ترجمہ : روزہ دار کے لئے حجامہ کروانے میں کوئی حرج نہیں جبکہ اسے کمزروی کا خوف…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.