Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
رحیم نام رکھنا اور پکارنا
- Fatwa no.
- 2466-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) رحیم نام رکھنا کیسا؟ اور بیٹے کو صرف "رحیم " کہہ کر پکار ناکیسا؟
Answer (beginning)
رحیم نام رکھنا بالکل درست ہے ، اور بیٹے کو رحیم کہہ کر پکارنے میں بھی کوئی حرج نہیں، رحیم اللہ تعالی کے صفاتی ناموں میں سے ہے لیکن یہ ایسا نام نہیں جو اللہ تبارک و تعالی کے ساتھ خاص ہو ، قرآن پاک میں یہ نام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بھی آیا ہے اور آپ علیہ الصلوۃ والسلام کے صفاتی ناموں میں بھی شامل ہے۔ جو نام اللہ عز و جل کے ساتھ خاص نہیں، ان سے متعلق در مختار میں ہے ”و جاز التسمية بعلی و رشید و غيرهما من الاسماء المشتركة ويراد في حقنا غير ما يراد في حق الله تعالی، لکن التسمية بغیر ذلک في زماننا اولى لان العوام يصغرونها عند النداء “ ترجمہ : اسماء مشتر کہ میں سے علی، رشید وغیرہ نام…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.