Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بھانجے کو زکوۃ دینا کیسا ؟
- Fatwa no.
- 2462-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا بہن کے بیٹے کو زکوۃ دے سکتے ہیں تا کہ وہ اپنا قرض اتار سکے اور اسے بتانا نہیں ہے کہ یہ زکوۃ ہے ؟
Answer (beginning)
بہن کا بیٹا یعنی بھا نجا اگر مستحق زکوۃ ہو یعنی شرعی فقیر ہو کہ اس کے پاس قرض اور حاجت اصلیہ سے زائد ساڑھے باون تولے چاندی کی قیمت کے برابر مال موجود نہ ہو اور اس میں زکوۃ لینے کی دیگر شرائط ( مثلا ہاشمی نہ ہوناوغیرہ) پائی جائیں، تو اسے زکوۃ دے سکتے ہیں، بلکہ افضل ہے کہ اس میں صلہ رحمی بھی ہے، پھر زکوۃ لینے کے بعد وہ اسے اپنا قرض اتارنے یا کسی بھی کام میں خرچ کر سکتا ہے، اور زکوۃ دیتے وقت یہ بتانا ضروری نہیں کہ یہ زکوۃ کی رقم ہے بلکہ عیدی یا گفٹ وغیرہ کے نام سے بھی زکوۃ دے سکتے ہیں، مگر ز کوۃ دیتے وقت دل میں نیت ہو نا ضروری ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.