Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

مسجد میں چھوٹا سا اسٹال لگا کر چیزیں بیچنا کیسا؟

Fatwa no.
2461-WAT

Question

ہے۔ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) مسجد میں ٹوپی ، کنگھی ، عطر و غیر ہ کا چھوٹا سا اسٹال لگا کر یہ چیزیں بیچ سکتے ہیں ؟

Answer (beginning)

مسجد میں خرید و فروخت کرنا مکروہ تحریمی نا جائز و گناہ ہے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ترمذی شریف میں ہے: ” عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: "إذا رايتم من يبيع ، او يبتاع في المسجد، فقولوا: لا اربح الله تجارتك “ ترجمہ : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب تم ایسے شخص کو دیکھو جو مسجد میں خرید و فروخت کر رہا ہو تو کہو: اللہ تعالیٰ تمہاری تجارت میں نفع نہ دے۔“ (ترمذی شریف، رقم الحدیث 1321، ج 3، ص602، مطبوعہ مصر) فتاوی رضویہ میں ہے ”مسجد میں بیع و شراء، ناجائز ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.