Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

بھانجے کے بیٹے سے خالہ کا پردہ ہوگا یا نہیں؟

Fatwa no.
2457-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) میر اسوال یہ ہے کہ خالہ کا بھانجے سے پردہ نہیں ہوتا تو کیا بھانجے کے بیٹے سے خالہ کا پر دہ ہو گا یا نہیں ؟

Answer (beginning)

خالہ کا بھانجے کے بیٹے سے بھی شرعی پردہ نہیں ہے، کیونکہ وہ بھی محرم ہے۔ چنانچہ سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ اس حوالے سے ارشاد فرماتے ہیں: ” جیسے بھتیجی بھانجھی ویسے ہی ان کی اور بھتیجوں اور بھانجوں کی اولاد ، اور اولاد اولاد کتنے ہی دور سلسلہ جائے سب حرام ہیں ، بنات پوتیوں نواسیوں دور تک کے سلسلے سب کو شامل ہے، جس طرح فرمایا گیا: حرمت علیکم امهتكم و بنتکم تم پر حرام کی گئیں تمہاری مائیں اور تمہاری بیٹیاں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.