Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
قرض کی واپسی کے وقت اپنی خوشی سے زیادہ دینا
- Fatwa no.
- 2454-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر ہم نے کسی کو قرض دیا، اور اس سے زیادہ کا مطالبہ نہیں کیا لیکن وہ اپنی خوشی سے زیادہ رقم واپس کرے تو کیا یہ جائز ہے مثلا زید نے بکر کو 1000 روپے دیئے اور بکر نے زید کے مطالبے کے بغیر اپنی خوشی سے 1100 روپے لوٹائے تو کیا یہ سود ہوگا ؟
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں اگر قرض دیتے وقت صراحتایا عرفازیادہ دینا طے نہیں ہے، بلکہ یہی طے ہے کہ جتنا قرض دیا ہے ، اتنا ہی واپس کرنا ہے ، اس صورت میں اگر قرضدار اپنی مرضی اور خوشی سے قرض کی رقم سے زیادہ واپس کرے تو یہ سود نہیں ہے ، بلکہ یہ اچھا ہے۔ بدائع الصنائع میں ہے: ” أما إذا كانت غير مشروطة فيه ولكن المستقرض أعطاه أجودهما؛ فلا بأس بذلك؛ لأن الربا اسم لزيادة مشروطة في العقد، ولم توجد، بل هذا من باب حسن القضاء، وأنه أمر مندوب إليه قال النبي عليه السلام: «خيار الناس أحسنهم قضاء» “ ترجمہ : بہر حال جب قرض کی واپسی پر زیادتی مشروط نہ ہو لیکن قرضدار اس سے بہتر دے تو اس میں حرج نہیں ہے کیونکہ سود اس…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.