Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بیٹی کا نام رائقہ رکھنا
- Fatwa no.
- 2440-WAT
Question
بیٹی کا نام را که رکھنا کیسا؟
Answer (beginning)
را اللہ کا معنی ہے ”صاف، خالص “ اس لحاظ سے یہ نام رکھنا جائز ہے لیکن بیٹیوں کے ناموں میں بہتر یہ ہے کہ “ صحابیات و صالحات میں سے کسی کے نام پر اس کا نام رکھا جائے۔ مجم متن اللغۃ میں ہے ”الرائق: الصافي الخالص، يقال: حسن رائق وماء رائق“(معجم متن اللغة، ج 2، ص 684، دار مكتبة الحياة، بيروت) بہار شریعت میں ہے: ”بچہ کا اچھا نام رکھا جائے۔ ہندوستان میں بہت لوگوں کے ایسے نام ہیں جن کے کچھ معنی نہیں یا اون کے برے معنی ہیں ایسے ناموں سے احتراز کریں۔ انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام کے اسمائے طیبہ اور صحابہ و تابعین و بزرگان دین کے نام پر نام رکھنا بہتر ہے امید ہے کہ اون کی برکت بچہ کے شامل حال ہو۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.