Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نماز کی مختلف رکعتوں میں خارش کرنا

Fatwa no.
2432-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر نماز کی پہلی رکعت کے قیام میں ایک بار کھجلی (خارش کی اور اسی نماز کی دوسری رکعت میں ایک بار کھیلی (خارش) کی تو کیا اس صورت میں بھی نماز ٹوٹ جائے گی ؟

Answer (beginning)

نماز عمل کثیر سے ٹوٹتی ہے اور ایک رکن میں تین بار خارش وغیرہ کے لیے ہاتھ اٹھانا عمل کثیر کہلا تا ہے ، دوالگ الگ ارکان میں تین بار یا ایک رکن میں ایک یا دو بار ہاتھ اٹھانا عمل کثیر نہیں ہے۔ اور پوچھی گئی صورت میں اول تو تین بار ہاتھ اٹھانا نہیں پایا جارہا، بلکہ سائل کی وضاحت کے مطابق دو بار ہاتھ اٹھانا پایا جارہا ہے اور اگر اس صورت میں تین بار ہا تھ استعمال کیا ہو تا تو تب بھی نماز نہیں ٹوٹنی تھی کیونکہ یہ ایک رکن میں تین بار ہاتھ اٹھانا نہیں ہے بلکہ مختلف رکعتوں میں ہاتھ اٹھانا ہے لہذا عمل کثیر نہیں پایا گیا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.