Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

آگ سے پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضو کرنے کا حکم

Fatwa no.
2430-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) آگ سے پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضو کرو۔ اس حدیث کا کیا مطلب ہے ؟

Answer (beginning)

حدیث مبارک میں آگ سے کی چیز کے کھانے پر جو وضو کا حکم دیا گیا ہے ، اس کی تشریح میں علماء نے یہ بیان فرمایا ہے کہ یہاں وضو سے نماز والا وضو مراد نہیں، بلکہ کھانے کا وضو کر نامراد ہے، یعنی اس سے ہاتھ دھونا اور کلی کر نامراد ہے کہ آگ سے کی چیز کو کھانے کے بعد ہاتھ دھونا اور کلی کرنا مستحب ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے بھی ثابت ہے کہ آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے اونٹ کا گوشت تناول فرمایا اور اس کے بعد ہاتھ مبارک دھوئے اور کلی فرمائی پھر ارشاد فرمایا کہ آگ سے پکی چیز کھانے کے بعد کا وضو یہ ہے۔ شرح سنن ابی داؤد للعینی میں ہے " قوله: "الوضوء ۔۔۔ مما أنضجت النار، وقد بينا أن هذا الحديث وأمثاله۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.