Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
سجدہ سہو سنت و نفل میں بھی ہوتا ہے
- Fatwa no.
- 2427-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت دعوت اسلامی) یہ مسئلہ معلوم کرنا ہے کہ یہ سجدہ سہو جو ہے وہ صرف فرض نماز میں کرنا ہوتا ہے یا سنت، نوافل اور وتر میں بھی کر سکتے ہیں ؟ اگر سنت ، نوافل، وتر میں سجدہ سہو کرنا بھول جائے تو کیا حکم ہے؟
Answer (beginning)
سجدہ سہو نماز کے واجبات میں سے کسی واجب کے ترک ہونے کے سبب لازم ہوتا ہے، چاہے وہ نماز فرض ہو یا وتر یا سنت یا نفل۔ نیز یہ بات بھی یادر ہے کہ نماز کوئی بھی ہو ( فرض یا سنت یا نفل ) اس میں کسی واجب کے بھولے سے چھوٹ جانے کی وجہ سے سجدہ سہو واجب ہوتا ہے، لہذا اگر کسی نے جان بوجھ کر واجب ترک کیا تو سجدہ سہو کفایت نہیں کرے گا، نماز کا اعادہ (اسے دوبارہ پڑھنا) ہو گا۔ یو نہی اگر بھولے سے کوئی واجب چھوٹ گیا، جس پر سجدہ سہو کرنا تھا مگر سجدہ سہو نہیں کیا تو اس صورت میں بھی اس نماز کو دوبارہ پڑھنا ہو گا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.