Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
مٹی کے برتنوں کی خرید و فروخت کا حکم؟
- Fatwa no.
- 2425-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا مٹی کے برتنوں کی خرید و فروخت درست ہے ؟ میں نے کسی کتاب میں پڑھا ہے کہ مٹی کی بیع درست نہیں ہوتی ۔ اس حوالے سے رہنمائی فرمادیں درست کیا ہے ؟
Answer (beginning)
مٹی کے برتنوں کی خرید و فروخت شرعا جائز و درست ہے، کہ مٹی کے بر تن مال ہیں اور شرعی لحاظ سے ان پر عقد بیع بھی درست ہے ، انہیں مبیع بھی بنایا جا سکتا ہے ، باقی آپ نے جو پڑھا ہے کہ مٹی کی بیچ درست نہیں، تو اس سے مراد ایسی معمولی سی مٹی ہے ، جو مال بننے کی صلاحیت نہیں رکھتی، جسے بیچا اور خریدا نہیں جاتا جیسا کہ ایک مٹھی خاک کی پیچ کرنا کہ اسے کوئی بھی قابل بیچ چیز نہیں سمجھتا، ہاں اگر کثیر مٹی کی بیچ کی جائے ، یا مٹی کے برتن، اینٹیں وغیرہ بنا کر بیچی جائیں تو شرعا بالکل جائز ودرست ہے، بلکہ ان چیزوں کی بیچ پر تو تمام مسلمانوں کا عمل در آمد ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.