Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

دورانِ نماز، نمازی بھول کر کسی کو سلام کردے تو کیا حکم ہے ؟

Fatwa no.
2421-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) دوران نماز، نمازی بھول کر کسی کو سلام کر دے تو کیا حکم ہے ؟

Answer (beginning)

نماز کے دوران جان بوجھ کر یا بھولے سے سلام کرنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے، اگر چہ بھول کر ابھی صرف "السلام" ہی کہا ہو۔ فتاوی ہندیہ میں ہے " ولو سلم علی رجل تفسد مطلقا ترجمہ : ( نمازی نے ) کسی شخص کو سلام کیا تو اس کی وو نماز مطلقا فاسد ہو جائے گی۔ (فتاوی ہندیہ، کتاب الصلاة، ج1، ص98، دارالفکر بیروت) بہار شریعت میں ہے : " کسی شخص کو سلام کیا، عمد آہو یا سہواً، نماز فاسد ہو گئی، اگر چہ بھول کر اسلام کہا تھا کہ یاد آیا سلام کرنانہ چاہیے اور سکوت کیا۔۔۔ زبان سے سلام کا جواب دینا بھی نماز کو فاسد کرتا ہے اور ہاتھ کے اشارے سے دیا تو مکروہ ہوئی، سلام کی نیت سے مصافحہ کرنا بھی نماز کو فاسد کر دیتا ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.