Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

امام قعدہ اولی میں بھول کر سلام پھیر دے تو مقتدی پر لقمہ دینا لازم ہے؟

Fatwa no.
2415-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر امام قعدہ اولی میں بھولے سے سلام پھیر دے تو کیا مقتدی پر لقمہ دینا لازم ہے ؟

Answer (beginning)

اگر امام قعدہ اولی میں بھولے سے سلام پھیر دے تو مقتدی کو لقمہ دینا چاہیے کہ اب نہ بتانے میں نماز کے فاسد ہو جانے کا اندیشہ ہے ، کہ امام تو اپنے گمان میں نماز مکمل کر چکا ہے، لہذا ممکن ہے کہ اس سے کلام وغیرہ کوئی نماز کے منافی کام صادر ہو جائے۔ سیدی اعلی حضرت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن لقمے کے متعلق اپنے ایک تفصیلی فتوے میں قعدہ اولی میں امام کے سلام پھیر دینے کے حوالے سے فرماتے ہیں: "ہاں جس وقت سلام شروع کرتا اس وقت حاجت متحقق ہوتی اور مقتدی کو بتانا چاہئے تھا کہ اب نہ بتانے میں خلل و فساد نماز کا اندیشہ ہے کہ یہ تو اپنے گمان میں نماز تمام کر چکا، عجب نہیں کہ کلام وغیرہ کوئی…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.